کثرتِ جماع: بنیادی وجوہات اورجسمانی اثرات

جماع یا ازدواجی تعلق انسانی فطرت کا ایک لازمی اور قدرتی حصہ ہے۔ یہ نہ صرف جسمانی تسکین بلکہ ذہنی و جذباتی سکون کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ تاہم جب یہ عمل ضرورت اور توازن سے بڑھ جائے اور انسان ہر وقت جنسی خواہش کے زیرِ اثر رہے تو اسے کثرتِ جماع کہا جاتا ہے۔ یہ کیفیت وقتی لذت کے باوجود جسمانی، ذہنی اور ازدواجی زندگی میں کئی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

کثرتِ جمجوہااع کی بنیادی وت

کثرتِ جماع کے پیچھے مختلف عوامل کارفرما ہوتے ہیں جو ہر شخص میں مختلف ہو سکتے ہیں۔ سب سے عام وجہ ذہنی بے سکونی اور جذباتی خلاء ہے۔ جب انسان کو زندگی میں اطمینان یا جذباتی قربت نہ ملے تو وہ جسمانی تعلق کو سکون حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھنے لگتا ہے۔

ایک بڑی وجہ ہارمونی بے ترتیبی بھی ہے۔ جب جسم میں جنسی ہارمونی نظام میں خلل آتا ہے تو خواہش غیر معمولی طور پر بڑھ سکتی ہے۔ اسی طرح فحش مواد کا مسلسل دیکھنا، خود لذتی کی عادت، یا منشیات کا استعمال بھی اس کیفیت کو بڑھا دیتا ہے۔

کچھ دوائیں، مثلاً ہارمون بڑھانے والی ادویات، بھی جنسی خواہش کو غیر فطری سطح تک پہنچا دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ ذیابطیس، جگر یا دماغی امراض بھی اس کی شدت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

جسمانی اثرات اور ممکنہ نقصانات

اگر کثرتِ جماع کو کنٹرول نہ کیا جائے تو جسم پر کئی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے جسمانی توانائی تیزی سے ختم ہونے لگتی ہے کیونکہ ہر جماع کے بعد جسم سے وٹامنز، معدنیات اور قوت خارج ہوتی ہے۔ یہ عمل مسلسل جاری رہے تو مردانہ کمزوری، ٹیسٹوسٹیرون میں کمی، کمر درد، جوڑوں کا درد اور اعصاب کی کمزوری پیدا ہو سکتی ہے۔

کچھ افراد میں منی کی مقدار کم ہو جاتی ہے، جلد انزال ہونے لگتا ہے یا جنسی خواہش کے بعد مایوسی اور تھکن کا احساس رہنے لگتا ہے۔ کثرتِ جماع سے نیند کے مسائل، بھوک میں کمی، اور ذہنی بوجھ بھی بڑھ جاتا ہے۔

ذہنی اور جذباتی اثرات

ذہنی طور پر یہ کیفیت ایک لت یا جنسی جنون میں بدل سکتی ہے۔ انسان ہر وقت اسی خیال میں گم رہتا ہے اور دیگر کاموں پر توجہ نہیں دے پاتا۔ اس کے نتیجے میں کام، عبادت، تعلقات اور روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے۔ شریکِ حیات کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پیدا ہوتا ہے کیونکہ ایک طرف ضرورت سے زیادہ خواہش اور دوسری طرف جذباتی عدم توازن بڑھنے لگتا ہے۔

یہ کیفیت اکثر احساسِ جرم، بے چینی اور ذہنی دباؤ کا باعث بھی بنتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ انسان احساسِ محرومی یا بے اطمینانی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

مذہبی اور اخلاقی پہلو

اسلام نے ازدواجی تعلق کو ایک مقدس اور متوازن عمل قرار دیا ہے۔ قرآن و سنت میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انسان اپنی خواہشات میں اعتدال قائم رکھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ “تمہارے جسم کا تم پر حق ہے۔” اس کا مطلب ہے کہ خواہشات میں ایسا توازن رکھا جائے جو جسم، ذہن اور روح تینوں کے لیے مفید ہو۔

علاج اور بحالی کا عمل

کثرتِ جماع کا علاج محض جسمانی نہیں بلکہ ذہنی اور اخلاقی سطح پر بھی ضروری ہے۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ کیفیت کسی کمزوری یا شرمندگی کا باعث نہیں، بلکہ ایک قابلِ علاج حالت ہے۔

علاج کا پہلا مرحلہ اپنے معمولات میں توازن پیدا کرنا ہے۔ ورزش، متوازن غذا، عبادت، مطالعہ اور مثبت سرگرمیوں سے ذہن مصروف رہے تو خواہشات پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

اگر یہ کیفیت شدید ہو اور خود پر قابو نہ رہے تو ماہر ڈاکٹر سے مشورہ لینا ضروری ہے۔ ڈاکٹر ہارمونی ٹیسٹ، نفسیاتی جائزہ اور جسمانی معائنہ کر کے صحیح وجہ جانچتے ہیں۔ اگر مسئلہ نفسیاتی ہو تو کونسلنگ یا تھراپی مؤثر ثابت ہوتی ہے، جبکہ جسمانی عدم توازن کے لیے دواؤں یا غذائی سپلیمنٹس سے علاج ممکن ہوتا ہے۔

ڈاکٹر فاروق نسیم بھٹی کیسے مدد کر سکتے ہیں

ڈاکٹر فاروق نسیم بھٹی پاکستان میں مردانہ و جنسی صحت کے ماہر معالج ہیں جو اس میدان میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ مریضوں کو نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی سطح پر بھی سمجھتے ہیں اور علاج میں رازداری اور اعتماد کو اولین اہمیت دیتے ہیں۔

کثرتِ جماع کے مریضوں کے لیے ڈاکٹر فاروق بھٹی ایک جامع تشخیص فراہم کرتے ہیں۔ وہ پہلے مریض کی مکمل ہسٹری لیتے ہیں تاکہ اس کی جسمانی، ہارمونی یا ذہنی وجوہات کو پہچانا جا سکے۔ اس کے بعد علاج میں طبّی دوائیں، جڑی بوٹیوں پر مبنی علاج، اور طرزِ زندگی میں تبدیلیاں شامل کی جاتی ہیں۔

ڈاکٹر فاروق بھٹی کے کلینک میں ہر مریض کے لیے علاج انفرادی طور پر تیار کیا جاتا ہے تاکہ نہ صرف جنسی خواہش میں توازن آئے بلکہ ازدواجی زندگی بھی پُرسکون ہو۔ ان کے کلینک میں رازداری، عزت اور اعتماد کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے، جس سے مریض کھل کر اپنی کیفیت بیان کر سکتا ہے۔

توازن اور سکون کی زندگی

کثرتِ جماع کا مسئلہ عام ہے مگر شرم یا جھجھک کی وجہ سے اکثر لوگ اسے چھپاتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ بروقت علاج نہ صرف جسمانی کمزوری سے بچاتا ہے بلکہ ازدواجی زندگی کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کی خواہشات قابو سے باہر ہیں یا آپ جسمانی و ذہنی کمزوری کا شکار ہیں تو تاخیر نہ کریں۔

ڈاکٹر فاروق نسیم بھٹی سے رازداری کے ساتھ مشورہ حاصل کریں اور اپنے لیے ایک صحت مند، متوازن اور پُرسکون زندگی کا آغاز کریں۔

(Scientific References)

  1. World Health Organization (WHO). ICD-11 for Mortality and Morbidity Statistics (ICD-11 Browser). (Compulsive sexual behaviour disorder کو ICD-11 میں شامل کیا گیا ہے؛ “failure to control” اور functional impairment والا فریم ورک) ICD-11+1

  2. Kraus SW, Krueger RB, Briken P, et al. Compulsive sexual behaviour disorder in the ICD-11. World Psychiatry. 2018. (CSBD کی تعریف، معیار، اور یہ کہ یہ “addictive disorders” کے بجائے impulse-control گروپ میں ہے) PMC+2Wiley Online Library+2

  3. Derbyshire KL, Grant JE. Compulsive Sexual Behavior: A Review of the Literature. J Behav Addict. 2015. (کثرت/کمپلسِو جنسی رویّے کی کلینیکل خصوصیات، اسباب/ہمراہی، اور علاج کے عمومی اصول) PMC

  4. Kowalewska E, et al. Spotlight on Compulsive Sexual Behavior Disorder: A systematic review… Neuropsychiatric Disease and Treatment. 2020. (CSBD/مسئلہ بننے والے پورن و ماسٹر بیشن کی سائیکو-سوشل اور کلینیکل تصویر) Dove Medical Press

  5. Zhu L, et al. Evaluation and treatment of compulsive sexual behavior. Frontiers in Psychiatry. 2025. (علاج میں psychotherapy/CBT، اور بعض کیسز میں off-label ادویات جیسے SSRIs یا naltrexone کا ذکر) PMC+1

  6. Mayo Clinic. Compulsive sexual behavior – Diagnosis and treatment. 2023. (کلینیکل اپروچ: ٹاک تھراپی، ادویات/سپورٹ، اور روزمرہ فنکشننگ پر اثر کو معیار بنانا) Mayo Clinic+1

  7. Weintraub D, et al. Association of dopamine agonist use with impulse control disorders in Parkinson disease. JAMA Neurology. 2006. (بعض ادویات/خصوصاً dopamine agonists کے ساتھ hypersexuality/impulse-control مسائل کا تعلق) JAMA Network

  8. Grall-Bronnec M, et al. Dopamine Agonists and Impulse Control Disorders. 2017 (review). (dopamine agonists اور hypersexuality سمیت impulse-control behaviours پر evidence summary) PMC

  9. Codling D, et al. Hypersexuality in Parkinson’s disease: Systematic review. 2015. (ادویات/نیورولوجی کنڈیشنز کے ساتھ hypersexuality کی مثال اور مینجمنٹ کے نکات) PMC

  10. Kopeykina I, et al. Hypersexuality and couple relationships in bipolar disorder. J Affect Disord. 2016. (mania/hypomania میں hypersexuality اور ازدواجی/تعلقات پر اثرات) PubMed+1

  11. Frappier J, et al. Energy expenditure during sexual activity in young healthy couples. PLOS ONE. 2013. (جسمانی “توانائی خرچ” کے حوالے سے: sex عموماً moderate intensity activity ہے) PLOS+1

  12. Jiang M, et al. Relationship between ejaculation and serum testosterone level in men. 2003. (abstinence/ejaculation اور testosterone میں مختصر مدتی تبدیلیوں پر ڈیٹا) PubMed

  13. Golder S, et al. Compulsive sexual behavior disorder in an inpatient sample / association with substance use. 2024. (CSBD اور substance use کی comorbidity/اوورلیپ پر evidence) OUP Academic+1

  14. Jepsen D, et al. Problematic sexual behaviors, substance use, and trauma… 2024. (مسئلہ بننے والے جنسی رویّے، substance use، اور trauma/stress factors کا تعلق) Frontiers+1

Disclaimer

This information is for educational purposes and not the treatment. For treatment, you need to consult the doctor.

Dr. Farooq Nasim Bhatti

About the author

Dr. Farooq Nasim Bhatt

Dr. Farooq Nasim Bhatti (MBBS, FAACS – USA, Diplomate: American Board of Sexology, CST, HSC – Hong Kong, CART – Malaysia & China) is a qualified medical sexologist with 30+ years of experience. He has presented 21+ research papers internationally and treats sexual dysfunction through sex therapy, counseling, and pharmacotherapy to restore natural sexual function without temporary medication.

Dr. Farooq Nasim Bhatti - best clinical sexologist in pakistan

Regain Confidence with Our ED Solutions

Explore effective treatments for erectile dysfunction. Take charge of your intimacy today.