مردانہ عضو کا ٹیڑھا پن

مردانہ عضو کا ٹیڑھا پن کا علاج

مردانہ عضو کا ٹیڑھا پن — اسباب اور علاج

مردانہ عضو کا ٹیڑھا پن ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر بہت سے لوگ شرم یا گھبراہٹ کی وجہ سے بات نہیں کرتے، حالانکہ یہ حالت عام بھی ہو سکتی ہے اور قابلِ علاج بھی۔ کچھ مردوں میں عضو میں قدرتی طور پر ہلکا سا خم موجود ہوتا ہے جو عام طور پر نقصان دہ نہیں ہوتا۔ لیکن اگر خم اچانک بڑھنے لگے، عضو کھڑا ہونے کے دوران درد ہو، عضو میں سخت گانٹھ محسوس ہو، یا ازدواجی تعلق میں مشکل ہو تو یہ صرف “نارمل خم” نہیں رہتا بلکہ ایک بیماری ہو سکتی ہے جسے عام طور پر پیرونی کی بیماری کہا جاتا ہے۔ اس بیماری میں عضو کے اندر ایک جگہ زخم کے نشان جیسا سخت حصہ بن جاتا ہے اور عضو ایک سمت میں مڑنے لگتا ہے۔

یہ مضمون آسان الفاظ میں بتائے گا کہ مردانہ عضو کا ٹیڑھا پن کیوں ہوتا ہے، کن علامات پر توجہ دینی چاہیے، تشخیص کیسے ہوتی ہے، علاج کے کیا طریقے ہیں، اور کب ڈاکٹر سے رابطہ ضروری ہے۔

مردانہ عضو کا ٹیڑھا پن کیا ہے؟

پیرونی کی بیماری میں عضو کے اندر ایک سخت سا حصہ بن جاتا ہے جسے زخم کے نشان جیسا سخت ٹکڑا سمجھ لیں۔ یہ حصہ لچک دار نہیں رہتا، اس لیے جب عضو کھڑا ہوتا ہے تو عضو کا باقی حصہ پھیلتا ہے مگر وہ سخت حصہ کم پھیلتا ہے—نتیجہ یہ کہ عضو اوپر، نیچے یا سائیڈ کی طرف مڑ جاتا ہے۔ بعض لوگوں میں خم کے ساتھ عضو کی شکل بدلتی ہے، کبھی درمیان سے تنگی محسوس ہوتی ہے، اور کبھی لمبائی میں کمی بھی محسوس ہو سکتی ہے۔

کیا ہر ٹیڑھا پن بیماری ہے؟

نہیں۔ بہت سے مردوں میں ہلکا خم فطری طور پر ہوتا ہے اور نہ درد ہوتا ہے، نہ ازدواجی تعلق میں مسئلہ۔ بیماری کا شک تب زیادہ ہوتا ہے جب:

  • خم نیا ہو یا تیزی سے بڑھ رہا ہو

  • عضو کھڑا ہونے کے دوران درد ہو

  • عضو میں سخت گانٹھ محسوس ہو

  • ازدواجی تعلق میں مشکل ہو یا ساتھ ہی کمزوری بھی ہو

عام علامات

پیرونی کی بیماری میں علامات ہر شخص میں مختلف ہو سکتی ہیں۔ کچھ میں درد نمایاں ہوتا ہے، کچھ میں صرف خم، اور کچھ میں سختی برقرار رکھنے میں مسئلہ۔ عام علامات یہ ہیں:

  • عضو کھڑا ہونے پر واضح ٹیڑھا پن

  • عضو میں سخت گانٹھ یا سخت جگہ محسوس ہونا

  • عضو کھڑا ہونے پر درد یا کھنچاؤ

  • عضو کی لمبائی کم لگنا یا شکل میں تبدیلی

  • عضو کی سختی برقرار نہ رہنا

  • ذہنی دباؤ، شرمندگی، اور ازدواجی تعلق سے بچاؤ

اگر آپ کو لگے کہ خم بڑھ رہا ہے یا ازدواجی زندگی متاثر ہو رہی ہے تو تاخیر کے بجائے درست تشخیص بہتر فیصلہ ہے۔

یہ کیوں ہوتا ہے؟ — اصل وجہ کیا ہے؟

زیادہ تر کیسز میں بنیادی وجہ بار بار کی چھوٹی چوٹ سمجھی جاتی ہے—جیسے ازدواجی تعلق کے دوران یا کبھی کسی حادثاتی جھٹکے میں۔ اکثر یہ چوٹ اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ فوری طور پر محسوس نہیں ہوتی، مگر جسم ٹھیک ہونے کے عمل میں اس جگہ زخم کے نشان جیسا سخت حصہ بنا دیتا ہے۔ اگر یہ عمل غیر متوازن ہو جائے تو سخت حصہ بن جاتا ہے اور خم شروع ہو جاتا ہے۔

کچھ دوسرے عوامل بھی اس کے ساتھ جڑے ہو سکتے ہیں:

  • عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی بافتوں کی لچک کم ہونا

  • کچھ افراد میں خاندانی رجحان

  • پہلے سے عضو کی کمزوری یا خون کی روانی کے مسائل

  • ذیابطیس، بلند فشارِ خون، یا میٹابولزم کے مسائل (ہر کیس میں نہیں)

  • تمباکو نوشی، نیند کی کمی، یا مسلسل ذہنی دباؤ

اہم بات یہ ہے کہ یہ حالت “کردار” یا “مردانگی” کا مسئلہ نہیں—یہ ایک طبی مسئلہ ہے جس کی تشخیص اور علاج ممکن ہے۔

مراحل: ابتدائی مرحلہ اور مستحکم مرحلہ

پیرونی کی بیماری عموماً دو مرحلوں میں دیکھی جاتی ہے:

1) ابتدائی مرحلہ

اس مرحلے میں:

  • درد زیادہ ہو سکتا ہے

  • خم بڑھ سکتا ہے یا نئی تبدیلیاں آ سکتی ہیں

  • سخت حصہ بننے کا عمل جاری رہتا ہے

یہ مرحلہ کئی مہینوں تک رہ سکتا ہے۔ اسی دوران خود سے سخت ورزشیں یا غلط طریقے آزمانا مسئلہ بڑھا سکتا ہے۔

2) مستحکم مرحلہ

اس مرحلے میں:

  • خم عموماً ٹھہر جاتا ہے

  • درد کم ہو جاتا ہے یا ختم ہو جاتا ہے

  • مگر خم یا شکل کی وجہ سے ازدواجی تعلق میں مشکل رہ سکتی ہے

علاج کا انتخاب اکثر اس بات پر ہوتا ہے کہ آپ کس مرحلے میں ہیں اور مسئلہ کتنا عملی نقصان کر رہا ہے۔

تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

ڈاکٹر عام طور پر یہ چیزیں جاننا چاہیں گے:

  • مسئلہ کب شروع ہوا؟

  • خم بڑھ رہا ہے یا ٹھہر گیا ہے؟

  • درد ہے یا نہیں؟

  • عضو کی سختی کیسی ہے؟

  • ازدواجی تعلق ممکن ہے یا مشکل؟

اس کے بعد:

  • معائنہ میں سخت حصہ محسوس کیا جا سکتا ہے

  • بعض صورتوں میں تصویری یا الٹراساؤنڈ جیسی جانچ کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاکہ سخت حصے اور خون کی روانی کے بارے میں بہتر سمجھ آ سکے

گھر پر آپ صرف اتنا کریں کہ تبدیلیوں کو نوٹ رکھیں: خم بڑھ رہا ہے یا نہیں، درد کی شدت، اور سختی کی کیفیت۔ خود سے زور لگا کر عضو کو سیدھا کرنے کی کوشش نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

علاج: کیا واقعی ٹھیک ہو سکتا ہے؟

علاج کا مقصد عموماً تین چیزیں ہوتی ہیں:

  1. درد کم کرنا

  2. خم کو کم یا مستحکم کرنا

  3. ازدواجی تعلق اور اعتماد کو بہتر بنانا

1) صرف نگرانی اور احتیاط

اگر خم ہلکا ہے، درد نہیں، اور ازدواجی زندگی متاثر نہیں ہو رہی تو بعض صورتوں میں ڈاکٹر فوری مداخلت کے بجائے نگرانی کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس دوران زندگی کے معمولات بہتر کرنا، ذہنی دباؤ کم کرنا اور وقتاً فوقتاً معائنہ مفید رہتا ہے۔

2) بغیر آپریشن علاج (خاص طور پر ابتدائی مرحلے میں)

یہاں بہت سے لوگ غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ بغیر آپریشن علاج کا مطلب “گھر کے ٹوٹکے” نہیں بلکہ ڈاکٹر کی رہنمائی کے مطابق طریقۂ علاج ہے۔ کچھ کیسز میں ڈاکٹر مخصوص طبی طریقے تجویز کرتے ہیں جو فرد کی حالت کے مطابق ہوتے ہیں۔
اس دوران خود سے سخت کھینچاؤ، غلط ورزشیں، یا نقصان دہ طریقے اپنانے سے مسئلہ بڑھ سکتا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ پہلے تشخیص ہو۔

3) کلینک میں ہونے والے طریقۂ علاج

کچھ علاج ایسے ہیں جو مخصوص مریضوں میں ڈاکٹر کلینک کے اندر کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ خم کی مقدار، بیماری کے مرحلے اور عضو کی سختی کی کیفیت دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ ہر مریض اس کے لیے موزوں نہیں ہوتا۔

4) آپریشن (عموماً مستحکم مرحلے میں)

اگر خم اتنا بڑھ جائے کہ ازدواجی تعلق تقریباً ناممکن ہو جائے، اور حالت کافی عرصہ سے مستحکم ہو تو کچھ مریضوں میں آپریشن پر بات کی جاتی ہے۔ یہ فیصلہ مکمل جانچ کے بعد ہی ہونا چاہیے۔

عام غلط فہمیاں جو مسئلہ بڑھا دیتی ہیں

“یہ خود ہی لازمی ٹھیک ہو جائے گا”
کچھ کیسز میں درد کم ہو جاتا ہے یا حالت ٹھہر جاتی ہے، مگر اگر خم بڑھ رہا ہو یا ازدواجی تعلق متاثر ہو تو تاخیر نقصان دے سکتی ہے۔

“ایک ہی دوا یا ایک ہی نسخہ سب کے لیے”
اس بیماری میں ہر مریض کی کیفیت مختلف ہوتی ہے۔ ایک ہی چیز سے سب کا مسئلہ حل ہونا حقیقت پسندانہ نہیں۔

“ازدواجی تعلق مکمل بند کر دینا ضروری ہے”
ہر کیس میں نہیں۔ اگر درد بہت زیادہ ہو تو احتیاط کی ضرورت ہو سکتی ہے، مگر مکمل پرہیز کے بجائے ڈاکٹر کی رہنمائی کے مطابق راستہ بہتر ہے۔

کب ڈاکٹر سے فوراً رابطہ کریں؟

اگر یہ باتیں ہوں تو تاخیر نہ کریں:

  • خم اچانک بڑھ رہا ہو

  • عضو کھڑا ہونے پر شدید درد ہو

  • سخت گانٹھ واضح محسوس ہو

  • ازدواجی تعلق مشکل یا ناممکن ہو رہا ہو

  • عضو کی سختی میں واضح کمی آ رہی ہو

  • ذہنی دباؤ اور رشتے میں کشیدگی بہت بڑھ رہی ہو

ہمارا مرکز — من ہیلتھ پاکستان

 ہم مردانہ جنسی مسائل کو شرمندگی کے بجائے طبی مسئلہ سمجھ کر دیکھتے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق نسیم بھٹی کی نگرانی میں ہم مردانہ کمزوری، جلدی انزال، کم خواہش، مردانہ عضو کا ٹیڑھا پن، جریان/دھات، اور مردانہ بانجھ پن جیسے مسائل میں خفیہ اور باعزت رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ہم آن لائن مشاورت کے ذریعے بھی سہولت دیتے ہیں تاکہ آپ گھر بیٹھے مکمل رازداری کے ساتھ اپنی حالت کے مطابق علاج کا منصوبہ حاصل کر سکیں۔ اگر آپ کو عضو کی سختی برقرار رکھنے میں بھی مسئلہ محسوس ہو رہا ہے تو مردانہ کمزوری کی وجوہات اور علاج کو بھی پڑھیں—یہ آپ کو سمجھنے میں مدد دے گا کہ سختی کے مسائل اور عضو کا ٹیڑھا پن بعض اوقات کیوں ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔

خلاصہ

مردانہ عضو کا ٹیڑھا پن ایک حساس مگر قابلِ تشخیص اور قابلِ علاج مسئلہ ہے۔ ہلکا فطری خم نارمل ہو سکتا ہے، لیکن اگر درد، نئی تبدیلی، سخت گانٹھ، یا ازدواجی تعلق میں مشکل ہو تو اسے نظر انداز نہ کریں۔ بروقت معائنہ اور درست رہنمائی سے علاج کے بہتر راستے کھلتے ہیں اور ذہنی دباؤ بھی کم ہوتا ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

 مردانہ عضو کا ٹیڑھا پن کیوں ہوتا ہے؟

زیادہ تر کیسز میں بار بار کی چھوٹی چوٹ اور ٹھیک ہونے کے دوران سخت حصہ بننے سے خم پیدا ہوتا ہے۔ کچھ افراد میں خاندانی رجحان بھی ہو سکتا ہے۔

 کیا ہر ٹیڑھاپن پیرونی کی بیماری ہے؟

نہیں۔ ہلکا فطری خم عام ہو سکتا ہے۔ اگر خم نیا ہو، بڑھ رہا ہو، درد ہو یا ازدواجی تعلق متاثر ہو تو تشخیص ضروری ہے۔

 کیا اس میں درد ہوتا ہے؟

کچھ مریضوں میں ابتدائی مرحلے میں درد ہوتا ہے، کچھ میں نہیں۔ دونوں صورتوں میں مشورہ مفید رہتا ہے۔

کیا بغیر آپریشن علاج ممکن ہے؟

کئی مریضوں میں بغیر آپریشن طریقوں سے بہتری یا حالت کا ٹھہراؤ ممکن ہوتا ہے، خاص طور پر جب بیماری ابتدائی یا درمیانی درجے کی ہو۔

کیا اپنے طور پر کھینچاؤ یا ورزش کرنی چاہیے؟

بغیر تشخیص کے خود سے سخت طریقے اپنانا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ بہتر ہے پہلے معائنہ ہو اور ڈاکٹر کی رہنمائی لی جائے۔

کیا اس بیماری سے مردانہ کمزوری ہو سکتی ہے؟

جی ہاں، بعض مریضوں میں خم اور اندرونی سخت حصے کی وجہ سے سختی متاثر ہو سکتی ہے، اور بعض میں ذہنی دباؤ کی وجہ سے مسئلہ بڑھ جاتا ہے۔

 کب آپریشن کی ضرورت پڑتی ہے؟

جب حالت کافی عرصہ سے ٹھہر جائے، خم شدید ہو، اور ازدواجی تعلق واضح طور پر متاثر ہو رہا ہو، تب آپریشن پر بات کی جاتی ہے۔

 کیا یہ مسئلہ مکمل رازداری سے بتایا جا سکتا ہے؟

بالکل۔ یہ آپ کا حق ہے کہ آپ کا مسئلہ باعزت اور خفیہ طریقے سے سنا اور سمجھا جائے، اور آن لائن مشاورت اس میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

Disclaimer

This information is for educational purposes and not the treatment. For treatment, you need to consult the doctor.

Dr. Farooq Nasim Bhatti

About the author

Dr. Farooq Nasim Bhatt

Dr. Farooq Nasim Bhatti (MBBS, FAACS – USA, Diplomate: American Board of Sexology, CST, HSC – Hong Kong, CART – Malaysia & China) is a qualified medical sexologist with 30+ years of experience. He has presented 21+ research papers internationally and treats sexual dysfunction through sex therapy, counseling, and pharmacotherapy to restore natural sexual function without temporary medication.

Dr. Farooq Nasim Bhatti - best clinical sexologist in pakistan

Regain Confidence with Our ED Solutions

Explore effective treatments for erectile dysfunction. Take charge of your intimacy today.